25 نومبر 2017 - 17:16
پاکستان؛ مظاہرین کے خلاف سیکورٹی آپریشن کے بعد حالات سخت کشیدہ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مذہبی جماعت کا دھرنا ختم کرانے کے لیے سیکورٹی آپریشن کے بعد مختلف شہروں میں حالات سخت کشیدہ ہو گئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مذہبی جماعت کا دھرنا ختم کرانے کے لیے سیکورٹی آپریشن کے بعد مختلف شہروں میں حالات سخت کشیدہ ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے عدالت کے حکم پر اسلام آباد کے نواحی علاقے فیض آباد میں بیس روز سے جاری دھرنا ختم کرانے کے لیے ہفتے کی صبح آپریشن شروع کیا تھا جس کے دوران پولیس اور دھرنے کے شرکا کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔پولیس اور دھرنے کے شرکا کے درمیان تصادم، وقفے وقفے سے جاری رہا جس کے دوران درجنوں سیکورٹی اہلکار اور مظاہرین زخمی ہوگئے۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ دھرنے کے شرکا جو پولیس آپریشن کے بعد منتشر ہوگئے تھے ایک بار پھر اس مقام پر اکھٹا ہوگئے جسے پولیس نے ان سے خالی کرالیا تھا۔
اسلام آباد میں دھرنا آپریشن کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں جس کے دوران مشتعل مظاہرین نے متعدد بسوں اور گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی ہے۔
پاکستان کے صنعتی اور تجارتی مرکز کراچی میں نوجوانوں کی ٹولیوں نے متعدد علاقوں میں دوکانیں اور کاروباری مراکز بند کرادیئے اور یہ سلسلہ دن بھر جاری رہا۔جبکہ نمائش چورنگی پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد دھرنا دیئے بیٹھی ہے۔کئی علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔
پاکستان کے ثفافتی شہر لاہور میں حالات سخت کشیدہ بتائے جاتے ہیں اور انتظامیہ کی مدد کے لئے رینجرز کی مزید چار کمپنیوں کو طلب کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کے دیگر شہروں سے بھی ایسے ہی مظاہروں کی خـبریں موصول ہوئی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
حکومت پاکستان نے سرکاری اور نجی ٹی وی چینلوں سے دھرنے کے شرکا کے خلاف آپریشن اور مظاہروں کی لائیو کوریج دکھانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ادھر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور دھرنے کے معاملے پر تحمل اور افہام و تفہیم سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ نے الزام لگایا ہے دھرنے کے شرکا کا ہندوستان سے رابطہ ہے اور ہم اس رابطے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک گروہ، قوم کی صفوں میں انتشار پھیلانے کے لیے عقیدہ ختم نبوت کو استعمال کر رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بیس روز سے اسلام آباد میں دھرنے پر بیٹھے، تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکن، ملک کے انتخابی نظام میں ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کیے جانے پر وزیر قانون زاہد حامد کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ حکومت نے ختم نبوت کے حلف نامے کو اپنی اصل شکل میں پہلے ہی بحال کر دیا ہے۔
حکومت اور دھرنے کی قیادت کرنے والوں کے درمیان مذاکرات کے چھے دور بھی ہوئے تاہم ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا جس کے بعد عدالت نے حکومت کو ہفتے تک دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲